ہفتہ 7 نومبر 2026 - 21:40
مکہ مکرمہ کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کو یمن کے خلاف بھڑکانے کا اسرائیلی منصوبہ؛ موساد کے لیے جاسوسی کے جرم میں سزا یافتہ شخص کا انکشاف

حوزہ/ یمن کے سرکاری ٹیلی ویژن نے موساد کے لیے جاسوسی کے جرم میں سزا یافتہ عبدالمعین عزان کے اعترافات نشر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے مسجد الحرام کو نشانہ بناکر اس حملے کا الزام یمن پر ڈالنے اور مسلمانوں کو یمن کے خلاف بھڑکانے کا منصوبہ بنایا تھا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، موساد کے لیے جاسوسی کے جرم میں سزا یافتہ ایک شخص نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے سعودی عرب میں مقدس شہر مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے اور اس حملے کا الزام یمن پر عائد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس مبینہ منصوبے کا مقصد مسلمانوں کو یمن کے خلاف مشتعل کرنا اور بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی افواج کی موجودگی کے لیے جواز فراہم کرنا تھا۔

یمن کے سرکاری ٹیلی ویژن نے عبدالمعین عزان کے سابقہ اعترافات پر مشتمل ایک ویڈیو نشر کی ہے۔ عبدالمعین عزان 2021 میں گرفتار ہونے والے امریکہ اور اسرائیل سے منسلک ایک جاسوسی نیٹ ورک کا رکن رہا ہے۔ ویڈیو میں اس نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے مسجد الحرام اور اس کے اطراف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی، تاکہ اس حملے کی ذمہ داری یمنی فورسز پر عائد کی جاسکے۔

مکہ مکرمہ کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کو یمن کے خلاف بھڑکانے کا اسرائیلی منصوبہ؛ موساد کے لیے جاسوسی کے جرم میں سزا یافتہ شخص کا انکشاف
عبدالمعین عزان اسرائیلی جاسوس

نشر کیے گئے اعترافات کے مطابق، عبدالمعین عزان نے بتایا کہ دسمبر 2019 کے اواخر میں اردن میں اس کی ملاقات شاؤل گاد (Shaul Gad) نامی اسرائیلی انٹیلی جنس افسر سے ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں یمن کی انصار اللہ تحریک کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر گفتگو ہوئی، جن میں مسجد الحرام یا حرمین شریفین کے اطراف کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بھی شامل تھا۔

عزان کے مطابق، اسرائیلی افسر نے مسجد الحرام یا اس کے قریبی علاقوں کو نشانہ بنانے کے امکان پر بات کی تھی۔ اس حملے کو بحیرۂ احمر یا کسی دوسرے مقام سے انجام دینے کی تجویز تھی، تاکہ بظاہر ایسا محسوس ہو کہ یہ کارروائی یمنی سرزمین سے کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ایک منظم تشہیری مہم چلانے کا منصوبہ بھی تھا، جس کا مقصد مسلمانوں اور عرب عوام میں یمن مخالف جذبات کو ہوا دینا تھا۔

عزان نے بتایا کہ جب اس نے اسرائیلی افسر کو اس منصوبے کے خطرناک نتائج اور خطے پر اس کے ممکنہ اثرات سے آگاہ کیا تو افسر نے مبینہ طور پر کہا کہ بین الاقوامی افواج بحیرۂ احمر کی حفاظت کریں گی اور امریکہ تیل کے وسائل کو تحفظ فراہم کرے گا، جبکہ سعودی عرب، یمنی فورسز اور سلفی گروہ صحرا میں ایک دوسرے کے خلاف لڑتے رہیں گے اور اسرائیل دور سے ان حالات کا مشاہدہ کرے گا۔

یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کی جانب سے یمن سے مکہ مکرمہ کے علاقے کی طرف ڈرون حملے کیے جانے کے بار بار الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں اور دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورت حال کے باوجود صنعاء نے واضح کیا ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے اطراف فضائی حدود محفوظ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، کشیدگی میں حالیہ اضافہ اس وقت شروع ہوا جب سعودی عرب نے جولائی میں صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بمباری کی۔ اس کے جواب میں یمنی مسلح افواج نے ’’ناکہ بندی کے جواب میں ناکہ بندی‘‘ کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے بحیرۂ احمر میں سعودی بحری جہازوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔

گزشتہ چند مہینوں کے دوران یمنی فوج نے بحیرۂ احمر میں سعودی عرب سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنانے کے متعدد بحری آپریشنز کی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ یمن کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ناکہ بندی پر عمل درآمد اور ریاض کی توانائی برآمدات کو متاثر کرنا ہے۔

یمنی فورسز نے سعودی عرب کے اندرونی علاقوں میں بھی جوابی حملے کیے ہیں۔ اسی دوران ستمبر میں یمنی افواج نے ساحلی میدانوں میں تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے اہم علاقوں پر اپنا کنٹرول مضبوط کیا اور آبنائے باب المندب کی تزویراتی اہمیت کے پیش نظر وہاں اپنی پوزیشن مستحکم کی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یمن نے گزشتہ ماہ فضائی کمپنیوں کو سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کے حوالے سے خبردار کیا تھا، تاہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے اطراف فضائی حدود کو محفوظ قرار دیا تھا۔

یمن اور سعودی عرب کے درمیان جاری تنازع کا آغاز مارچ 2015 میں ہوا، جب سعودی عرب اور امریکہ کی حمایت یافتہ اتحادی افواج نے صنعاء میں اپنے موافق حکومت کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے مقصد سے وسیع فوجی کارروائی اور ناکہ بندی شروع کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، برسوں کی بمباری اور جدید مغربی ہتھیاروں کے استعمال کے باوجود سعودی اتحاد اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha